6 اگست 2026 - 16:35
واشنگٹن پوسٹ: ایران جنگ، اسلحہ ذخائر اور حکمتِ عملی پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ، اس کی لاگت اور امریکہ کے تیزی سے کم ہوتے اسلحہ ذخائر کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر اختلافات میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ٹرمپ مبینہ طور پر اپنے وزیر دفاع سے بھی سخت ناراض ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے صدارتی رہائش گاہ کمپ ڈیوڈ میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وزیر دفاع پِیٹ ہیگستھ سے اس بارے میں وضاحت طلب کی کہ انہیں امریکی اسلحہ ذخائر میں شدید کمی سے متعلق غلط معلومات کیوں فراہم کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق، جنگ کے آغاز میں ہیگستھ فوجی کارروائی کے بڑے حامی تھے اور انہوں نے فوری کامیابی کی یقین دہانی کرا کے ٹرمپ کو آپریشن شروع کرنے پر آمادہ کیا تھا، تاہم جنگ کے طویل ہونے، اسلحہ ذخائر میں تیزی سے کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے امریکی انتظامیہ کو اپنی عسکری حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ٹام ہاک طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، پیٹریاٹ اور تھاڈ فضائی دفاعی نظاموں کے میزائلوں کی کم ہوتی تعداد ان اہم عوامل میں شامل ہے جن کی وجہ سے ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے حملوں سے گریز کیا۔

اخبار کے مطابق، جنگ کے پہلے ہی مہینے میں امریکی فوج نے 850 سے زائد ٹام ہاک میزائل، ایک ہزار سے زیادہ پیٹریاٹ اور تھاڈ انٹرسیپٹر میزائل، اور 1300 سے زائد ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل استعمال کیے، جس سے امریکی فوجی ذخائر کا بڑا حصہ متاثر ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ATACMS میزائلوں کے ذخائر بھی انتہائی کم سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ یوکرین کو بھی یہی ہتھیار فراہم کرنے کی امریکی ضرورت برقرار ہے، جس سے پینٹاگون کو ایک نیا چیلنج درپیش ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بعض اہم ہتھیاروں کے ذخائر کی دوبارہ تکمیل میں دو سال تک لگ سکتے ہیں، اگرچہ امریکہ نے اسلحہ سازی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت دفاع نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے رپورٹ کو "غلط" قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اپنے وزیر دفاع پر مکمل اعتماد حاصل ہے، جبکہ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے بھی داخلی اختلافات یا اسلحہ ذخائر سے متعلق گمراہ کن معلومات فراہم کیے جانے کے دعوؤں کی تردید کی۔

تاہم واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں اصرار کیا ہے کہ جنگ کے تسلسل، بڑھتے ہوئے اخراجات اور آبنائے ہرمز کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال نے وزیر دفاع پر صدر ٹرمپ کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha